Skip to main content

JAZ BANDA AND KATORA LAKE – JEWELS OF KUMRAT VALLEY

 JAZ BANDA: THE CROWN JEWEL OF KUMRAT VALLEY

JAZ BANDA AND KATORA LAKE – JEWELS OF KUMRAT VALLEY

جاز بانڈہ، کمراٹ ویلی اور دیر کوہستان کا وہ دلکش سیاحتی مقام ہے جسے قدرت نے بے مثال حسن سے نوازا ہے۔ سرسبز میدان، برف پوش پہاڑ، نیلگوں جھیلیں، بہتے چشمے اور بلند و بالا آبشاریں اس علاقے کو پاکستان کے خوبصورت ترین مقامات میں شامل کرتی ہیں۔ دیر کوہستان کی مشہور و معروف کٹورا جھیل بھی اسی حسین وادی میں واقع ہے، جو اپنے شفاف نیلے پانی اور پُرفضا ماحول کی وجہ سے سیاحوں کے لئے جنت کا منظر پیش کرتی ہے۔

جاز بانڈہ سطحِ سمندر سے تقریباً 10,500 سے 11,500 فٹ (3200 تا 3500 میٹر) کی بلندی پر واقع ہے، جبکہ کٹورا جھیل تقریباً 11,500 فٹ کی بلندی پر موجود ہے۔ گرمیوں میں یہاں کا موسم نہایت خوشگوار اور ٹھنڈا رہتا ہے، جبکہ سردیوں میں پورا علاقہ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتا ہے، جو اس کی خوبصورتی کو مزید دوبالا کر دیتی ہے۔

سال 2015 سے پہلے جاز بانڈہ ایک نہایت پُرسکون، سرسبز اور قدرتی حسن سے مالا مال مقام تھا، جہاں صرف مقامی چراگاہیں اور چند روایتی جھونپڑیاں موجود تھیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ہوٹلوں اور ریسٹ ہاؤسز کی غیر منصوبہ بند اور بے ہنگم تعمیرات نے اس جنت نظیر مقام کے قدرتی حسن کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ حکومت کی عدم توجہ اور ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے باعث یہ خوبصورت علاقہ آہستہ آہستہ کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر بروقت ماحول دوست سیاحت اور مناسب منصوبہ بندی پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والی نسلیں اس مقام کی اصل خوبصورتی سے محروم ہو جائیں گی۔

جہاز بانڈہ اپنے وسیع سبز میدانوں کے ساتھ ساتھ شاندار آبشاروں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ یہاں واقع “کونڈ آبشار” اور “دانو پشکیر آبشار” پاکستان کے خوبصورت ترین آبشاروں میں شمار ہوتے ہیں، جن کا شور، پانی کی روانی اور قدرتی منظر ہر آنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں تین چھوٹی بڑی جھیلیں بھی موجود ہیں، جن میں کٹورا جھیل سب سے بڑی اور مشہور جھیل ہے۔

یہ علاقہ ٹریکنگ، ہائیکنگ، کیمپنگ، فوٹوگرافی اور ایڈونچر ٹورازم کے شوقین افراد کے لئے کسی خواب سے کم نہیں۔ جاز بانڈہ تک رسائی عموماً تھل گاؤں سے پیدل ٹریک یا جیپ ٹریک کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔ راستے میں گھنے جنگلات، پہاڑی ندیاں، قدرتی چشمے اور سرسبز چراگاہیں سفر کو ناقابلِ فراموش بنا دیتی ہیں۔

جاز بانڈہ صرف دیر بالا یا خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مقام قدرتی حسن، سکون اور ایڈونچر کا ایسا حسین امتزاج ہے جو ہر سیاح کے دل میں ہمیشہ کے لئے اپنی یاد چھوڑ جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

KUMRAT VALLEY FROM NATURAL PARADISE TO A SUSTAINABLE TOURISM HUB

UNLOCKING THE TOURISM POTENTIAL OF KUMRAT VALLEY PAKISTAN کمراٹ ویلی: قدرتی حسن سے پائیدار سیاحتی معیشت تک کا سفر کمراٹ ویلی پاکستان کی سیاحتی صنعت (Tourism Industry) کا ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہے جس میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، مگر بدقسمتی سے اس کی اصل استعداد ابھی تک مکمل طور پر بروئے کار نہیں لائی جا سکی۔ دنیا بھر میں کامیاب سیاحتی مقامات (Tourist Destinations) کی ترقی صرف قدرتی حسن کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر (Tourism Infrastructure) ، مؤثر پالیسی سازی (Policy Making) ، بہتر سہولیات (Tourism Facilities) اور مقامی آبادی کی فعال شمولیت بنیادی عناصر سمجھے جاتے ہیں۔ قدرت نے کمراٹ ویلی کو بے مثال حسن سے نوازا ہے۔ یہاں کے سرسبز جنگلات، برف پوش پہاڑ، شفاف دریا، بلند آبشاریں اور دلکش قدرتی مناظر اسے دنیا کے کسی بھی خوبصورت سیاحتی مقام کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح اس وادی کے حسن سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم، اس قدرتی دولت کے باوجود کمراٹ کو کئی بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا...

DARAH – THE TRADITIONAL COMMUNITY CENTER OF DIR KOHISTAN

Darah of Kohistan: A Place of Wisdom, Music, and Tradition دیر کوہستان کا سماجی و ثقافتی ادارہ ”داراہ “ داراہ دیر کوہستان کے قبائلی اور سماجی نظام کا ایک نہایت اہم ادارہ ہے۔ جس طرح پشتون معاشرے میں حجرہ اور سندھی ثقافت میں اوطاق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اسی طرح گاؤری یا کوہستانی معاشرے میں داراہ کو خاص مقام حاصل ہے۔ دراصل ہجرے کو ہماری گاؤری زبان میں داراہ کہا جاتا ہے۔ ماضی میں جب پورے گاؤں کے گھر ایک ہی مقام پر آباد ہوتے تھے تو ایک مشترکہ داراہ ہوا کرتا تھا جہاں سب لوگ جمع ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ آبادی مختلف علاقوں میں پھیل گئی، مگر آج بھی ہر خاندان یا محلے کا اپنا مشترکہ داراہ موجود ہے۔ داراہ صرف بیٹھک نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک غیر رسمی پارلیمنٹ ہے۔ یہاں گاؤں اور علاقے کے مسائل زیرِ بحث آتے ہیں، فیصلے کیے جاتے ہیں اور جرگے افہام و تفہیم کے ذریعے تنازعات حل کرتے ہیں۔ شادی بیاہ اور غمی خوشی کی تقریبات بھی اکثر انہی داراہوں میں منعقد کی جاتی ہیں کیونکہ یہاں شادی ہال جیسی سہولیات موجود نہیں۔ ہر شام داراہ میں گاؤں اور محلے کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ کہیں ستار کی مدھر دھنیں سنائی دیتی ہیں...