Skip to main content

DANO PASHKEER WATER FALL JAAZ BANDA DIR UPPER

DANO PASHKEER WATER FALL JAAZ BANDA DIR UPPER 

دنوپشکیر آبشار، جہاز یا جاز بانڈہ دیر بالا کمراٹ ویلی

DANO PASHKEER WATER FALL JAAZ BANDA DIR UPPER

کوہستانِ دیر کی وادیوں میں چھپا ہوا ایک ایسا قدرتی شاہکار جسے دیکھنے کا شرف شاید ہی پاکستان کے ایک فیصد لوگوں کو بھی حاصل ہوا ہو۔ یہ محض ایک آبشار نہیں، بلکہ فطرت کی وہ خاموش عظمت ہے جو اب تک دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، یہ پاکستان کا سب سے بڑا آبشار ہے، مگر افسوس کہ اپنی دورافتادگی اور مشکل رسائی کے باعث یہ آج بھی گمنام ہے۔

یہ شاندار آبشار کوہستانِ دیر کے مشہور سیاحتی مقام جاز بانال میں واقع ہے۔ مقامی گاوری زبان میں اسے "دنوپشکیر" کہا جاتا ہے، جو اس کے جلال اور وسعت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس آبشار کی تشکیل بھی کسی داستان سے کم نہیں—اوپر پہاڑوں میں موجود گھان سر یا کٹورہ جھیل کا پانی بلندیوں سے سفر کرتا ہوا پہلے کونڑ آبشار کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اور پھر نشیب کی طرف بہتے ہوئے ایک عظیم الشان روپ دھار کر دنوپشکیر آبشار میں ڈھل جاتا ہے۔ یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک ہی منبع سے جنم لینے والے دو آبشاروں میں سے ایک دنیا کو نظر آتا ہے، جبکہ دوسرا—دنوپشکیر—ابھی تک راز بنا ہوا ہے۔

اس آبشار تک پہنچنا آسان نہیں۔ یہاں تک رسائی کے لیے کونڑ آبشار کے بہتے پانی کے ساتھ ساتھ دشوار گزار راستوں پر سفر کرنا پڑتا ہے۔ عموماً دو راستے استعمال ہوتے ہیں: ایک چمرین گیسٹ ہاؤس (جسے بعض لوگ راجہ گیسٹ ہاؤس بھی کہتے ہیں) سے، اور دوسرا جاز کے پہلے میدان سے نیچے اترتا ہوا۔ چمرین گیسٹ ہاؤس سے تقریباً دو سے تین گھنٹوں کی پیدل مسافت طے کرنی پڑتی ہے، جس میں پتھریلے راستے، ندی نالے، اور مسلسل چڑھائیاں اور اترائیاں شامل ہیں۔

یہ ٹریک عام سیاحوں کے لیے نہیں، بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے جو مہم جوئی کا شوق رکھتے ہیں۔ راستے کی دشواری کے باوجود، جب آپ اس آبشار کی پہلی جھلک دیکھتے ہیں تو ساری تھکن لمحوں میں اتر جاتی ہے۔ اندازاً سو سے دو سو فٹ کی بلندی سے گرنے والا یہ پانی ایک تنگ گھاٹی میں گرتا ہے، جہاں نہ کوئی وسیع میدان ہے اور نہ بیٹھنے کی مناسب جگہ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آبشار کو قریب سے دیکھنا تقریباً ناممکن ہے، اور اس کی خوبصورتی کو صرف فاصلے سے ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔

دنوپشکیر آبشار اپنی خاموشی میں ایک پیغام رکھتا ہے—یہ کہ فطرت کے کچھ شاہکار ایسے بھی ہوتے ہیں جو شہرت کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا آبشار ہونے کے باوجود آج بھی عام عوام کی آنکھوں سے اوجھل ہے، لیکن شاید یہی اس کی اصل خوبصورتی ہے: ایک ایسا راز، جو صرف ان لوگوں پر آشکار ہوتا ہے جو اسے ڈھونڈنے کی ہمت رکھتے ہیں۔


Comments

Popular posts from this blog

KUMRAT VALLEY FROM NATURAL PARADISE TO A SUSTAINABLE TOURISM HUB

UNLOCKING THE TOURISM POTENTIAL OF KUMRAT VALLEY PAKISTAN کمراٹ ویلی: قدرتی حسن سے پائیدار سیاحتی معیشت تک کا سفر کمراٹ ویلی پاکستان کی سیاحتی صنعت (Tourism Industry) کا ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہے جس میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، مگر بدقسمتی سے اس کی اصل استعداد ابھی تک مکمل طور پر بروئے کار نہیں لائی جا سکی۔ دنیا بھر میں کامیاب سیاحتی مقامات (Tourist Destinations) کی ترقی صرف قدرتی حسن کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر (Tourism Infrastructure) ، مؤثر پالیسی سازی (Policy Making) ، بہتر سہولیات (Tourism Facilities) اور مقامی آبادی کی فعال شمولیت بنیادی عناصر سمجھے جاتے ہیں۔ قدرت نے کمراٹ ویلی کو بے مثال حسن سے نوازا ہے۔ یہاں کے سرسبز جنگلات، برف پوش پہاڑ، شفاف دریا، بلند آبشاریں اور دلکش قدرتی مناظر اسے دنیا کے کسی بھی خوبصورت سیاحتی مقام کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح اس وادی کے حسن سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم، اس قدرتی دولت کے باوجود کمراٹ کو کئی بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا...

JAZ BANDA AND KATORA LAKE – JEWELS OF KUMRAT VALLEY

  JAZ BANDA: THE CROWN JEWEL OF KUMRAT VALLEY جاز بانڈہ، کمراٹ ویلی اور دیر کوہستان کا وہ دلکش سیاحتی مقام ہے جسے قدرت نے بے مثال حسن سے نوازا ہے۔ سرسبز میدان، برف پوش پہاڑ، نیلگوں جھیلیں، بہتے چشمے اور بلند و بالا آبشاریں اس علاقے کو پاکستان کے خوبصورت ترین مقامات میں شامل کرتی ہیں۔ دیر کوہستان کی مشہور و معروف کٹورا جھیل بھی اسی حسین وادی میں واقع ہے، جو اپنے شفاف نیلے پانی اور پُرفضا ماحول کی وجہ سے سیاحوں کے لئے جنت کا منظر پیش کرتی ہے۔ جاز بانڈہ سطحِ سمندر سے تقریباً 10,500 سے 11,500 فٹ (3200 تا 3500 میٹر) کی بلندی پر واقع ہے، جبکہ کٹورا جھیل تقریباً 11,500 فٹ کی بلندی پر موجود ہے۔ گرمیوں میں یہاں کا موسم نہایت خوشگوار اور ٹھنڈا رہتا ہے، جبکہ سردیوں میں پورا علاقہ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتا ہے، جو اس کی خوبصورتی کو مزید دوبالا کر دیتی ہے۔ سال 2015 سے پہلے جاز بانڈہ ایک نہایت پُرسکون، سرسبز اور قدرتی حسن سے مالا مال مقام تھا، جہاں صرف مقامی چراگاہیں اور چند روایتی جھونپڑیاں موجود تھیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ہوٹلوں اور ریسٹ ہاؤسز کی غیر منصوبہ بند اور بے ہنگم تعمیرات نے اس ج...

DARAH – THE TRADITIONAL COMMUNITY CENTER OF DIR KOHISTAN

Darah of Kohistan: A Place of Wisdom, Music, and Tradition دیر کوہستان کا سماجی و ثقافتی ادارہ ”داراہ “ داراہ دیر کوہستان کے قبائلی اور سماجی نظام کا ایک نہایت اہم ادارہ ہے۔ جس طرح پشتون معاشرے میں حجرہ اور سندھی ثقافت میں اوطاق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اسی طرح گاؤری یا کوہستانی معاشرے میں داراہ کو خاص مقام حاصل ہے۔ دراصل ہجرے کو ہماری گاؤری زبان میں داراہ کہا جاتا ہے۔ ماضی میں جب پورے گاؤں کے گھر ایک ہی مقام پر آباد ہوتے تھے تو ایک مشترکہ داراہ ہوا کرتا تھا جہاں سب لوگ جمع ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ آبادی مختلف علاقوں میں پھیل گئی، مگر آج بھی ہر خاندان یا محلے کا اپنا مشترکہ داراہ موجود ہے۔ داراہ صرف بیٹھک نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک غیر رسمی پارلیمنٹ ہے۔ یہاں گاؤں اور علاقے کے مسائل زیرِ بحث آتے ہیں، فیصلے کیے جاتے ہیں اور جرگے افہام و تفہیم کے ذریعے تنازعات حل کرتے ہیں۔ شادی بیاہ اور غمی خوشی کی تقریبات بھی اکثر انہی داراہوں میں منعقد کی جاتی ہیں کیونکہ یہاں شادی ہال جیسی سہولیات موجود نہیں۔ ہر شام داراہ میں گاؤں اور محلے کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ کہیں ستار کی مدھر دھنیں سنائی دیتی ہیں...