JAAZ BANDA OR JAZ BANDA DIR UPPER KP
جہاز بانڈہ دیر بالا کا ایک نہایت دلکش، پُرفضا اور حسین سیاحتی مقام ہے۔ یہاں قدرت نے اپنی خوبصورتی کھلے دل سے بکھیر رکھی ہے۔ سرسبز و شاداب میدان، بلند و بالا پہاڑ، ٹھنڈے چشمے، دل موہ لینے والے آبشار اور خوبصورت جھیلیں اس مقام کو جنت نظیر بناتے ہیں۔ سطح سمندر سے تقریباً گیارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ مقام اپنی غیر معمولی خوبصورتی کے باعث “پریوں کا دیس” اور “پاکستان کا سوئٹزرلینڈ” بھی کہلاتا ہے۔
قدیم زمانے سے جہاز بانڈہ ایک چراگاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ “بانڈہ” گاوری زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چراگاہ کے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں مقامی چرواہے اپنے مویشی لے کر یہاں آتے ہیں، جس سے اس علاقے کی ثقافت اور روایتی طرزِ زندگی کی خوبصورت جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔
جہاز بانڈہ تک پہنچنے کے لیے دو اہم راستے استعمال کیے جاتے ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ تھل جاتے ہوئے دروازوں کے مقام سے دائیں طرف مڑ کر لاموتی، متول اور جندرئی تک پہنچا جاتا ہے۔ جندرئی سے اگر پیدل سفر کرنا ہو تو ایربی بانڈہ کے راستے جانا پڑتا ہے، جبکہ جیپ یا فور بائی فور گاڑی ٹکئی بانڈہ تک باآسانی پہنچ سکتی ہے۔
دوسرا راستہ یہ ہے کہ آپ تھل سے باڈگوئی روڈ پر لاموتی پہنچیں۔ وہاں سے باڈگوئی پاس کی طرف جانے کے بجائے نیچے لاموتی گاؤں میں اتر کر متول اور جندرئی ویلی کے راستے ٹکی ٹاپ تک پہنچا جاتا ہے۔ یہاں سے جہاز بانڈہ کا خوبصورت ٹریک شروع ہوتا ہے جو مسلسل بلندی کی طرف جاتا ہے۔ راستہ اگرچہ کچھ دشوار ضرور ہے، مگر ہر موڑ پر فطرت کے حسین نظارے مسافروں کا استقبال کرتے ہیں۔ گھنے جنگلات، سرسبز ڈھلوانیں، رنگ برنگے جنگلی پھول اور بہتے جھرنے سفر کی تھکن کو خوشی میں بدل دیتے ہیں۔
جب آپ طویل چڑھائی کے بعد جہاز بانڈہ پہنچتے ہیں تو سامنے ایک وسیع و عریض ہموار سبز میدان ہوتا ہے، جسے دیکھ کر انسان حیرت میں گم ہو جاتا ہے۔ یہاں ہوٹل اور کیمپنگ کی سہولیات بھی موجود ہیں جہاں سیاح قیام کر سکتے ہیں۔ جہاز بانڈہ سے نیچے اتر کر کونڈ بانڈہ اور خوبصورت کونڈ آبشار دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ مزید آگے بڑھنے پر دلکش کٹھورہ جھیل واقع ہے، جو اپنی نیلگوں پانی اور پُرسکون ماحول کے باعث سیاحوں کو مسحور کر دیتی ہے۔

Comments
Post a Comment