Skip to main content

RAJA TAJ MUHAMMAD KHAN OF JAAZ BANDA KUMRAT VALLEY DIR UPPER

Raja Taj Muhammad Khan of Jandari Dir Upper KP

RAJA TAJ MUHAMMAD KHAN OF JAAZ BANDA KUMRAT VALLEY DIR UPPER

راجہ تاج محمد خان، ضلع اپر دیر کے علاقے جندری سے تعلق رکھنے والے ایک مخلص سماجی کارکن ہیں، جن کے روابط لاموتی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ایک نہایت بے لوث انسان ہیں جو کبھی شہرت یا اعتراف کے طلبگار نہیں رہے۔ کوہستان کے علاقے میں سیاحت کے فروغ کے لیے عملی میدان میں سب سے پہلے قدم رکھنے والوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔

1990 کی دہائی میں، راجہ تاج محمد خان اپنے علاقے سے غربت کے خاتمے اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے مقصد سے سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے میں پیش پیش رہے اور آج بھی اسی مشن پر کاربند ہیں۔ انہوں نے مختلف اہم شخصیات کو علاقے میں مدعو کیا تاکہ سیاحت کو بہتر انداز میں متعارف کرایا جا سکے۔ ان کی فیاضی اور مہمان نوازی اس قدر مشہور ہے کہ وہ اکثر اپنی آمدنی سے بڑھ کر مہمانوں پر خرچ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے شروع ہی سے ان کے تعلقات بااثر لوگوں کے ساتھ مضبوط ہیں۔

راجہ صاحب علاقے کی بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی ترقی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں، اور ان کے کئی ایسے کارنامے ہیں جو طویل عرصے تک یاد رکھے جائیں گے۔

ہاشمی میوزیم
سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ، راجہ صاحب علاقے کی قدیم تہذیب و ثقافت کو محفوظ بنانے کے ایک نہایت اہم اور مشکل کام میں مصروف ہیں۔ یہ کام صبر، محنت اور استقامت کا متقاضی ہے، خصوصاً اس لیے کہ ابتدائی طور پر مقامی لوگ بھی اس اقدام کے مخالف رہے ہیں۔

اپنی محدود زمین پر انہوں نے ایک میوزیم قائم کیا ہے اور نایاب و قیمتی قدیم اشیاء جمع کر رہے ہیں جو وقت کے ساتھ ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق، وہ جہاں کہیں بھی پرانی اشیاء دیکھتے ہیں، انہیں اکٹھا کرتے ہیں اور کئی چیزیں اپنی جیب سے خریدتے بھی ہیں۔ تقریباً 35 سال کی مسلسل محنت کے بعد یہ میوزیم آج ایک مکمل شکل اختیار کر چکا ہے۔

اس میوزیم میں کوہستانی ثقافت کی جھلک نمایاں ہے، جس میں قدیم اسلحہ (جو اس وقت کے نوابِ دیر کی جانب سے علاقائی ملکوں میں تقسیم کیا گیا تھا)، گھریلو برتن، موسیقی کے آلات، لکڑی کی کرسیاں، کھانے پینے کے برتن، لکڑی کے جوتے اور دیگر کئی اشیاء شامل ہیں۔ یہ میوزیم محققین اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے لیے ایک قیمتی خزانے کی حیثیت رکھتا ہے، اور ہر سال ہزاروں سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں۔

راجہ گیسٹ ہاؤس
ہاشمی میوزیم کے ساتھ ساتھ، راجہ صاحب نے ایک گیسٹ ہاؤس بھی قائم کر رکھا ہے جو "راجہ گیسٹ ہاؤس" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں آنے والے سیاحوں اور مہمانوں کو مفت قیام کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اگر کوئی اپنی مرضی سے کچھ دینا چاہے تو وہ الگ بات ہے، لیکن کوئی فیس مقرر نہیں ہے۔

گیسٹ ہاؤس میں اضافی مہمانوں کے لیے خیموں کا بھی انتظام موجود ہے۔ جندری، جو کہ ایک پہاڑی اور دور افتادہ گاؤں ہے اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے، وہاں یہ گیسٹ ہاؤس سیاحوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔

یہاں رات گزارنے کے بعد سیاح صبح کے وقت جہاز بانڈہ کی جانب روانہ ہوتے ہیں، جہاں تک رسائی پیدل ہی ممکن ہے کیونکہ تاحال کوئی سڑک موجود نہیں۔ اگر سیاح گائیڈ یا کسی اور سہولت کی درخواست کریں تو راجہ صاحب فوری طور پر اس کا انتظام کرتے ہیں۔

جہاز بانڈہ الپائن ریسٹ ہاؤس (چامرین کاٹیج)
راجہ صاحب کی معاونت سے لاہور کے ایک ڈاکٹر، جو اکثر جہاز بانڈہ آتے ہیں، نے وہاں ایک خوبصورت ریسٹ ہاؤس تعمیر کیا ہے۔ اس میں دو کمرے، ایک کچن، غسل خانہ اور دیگر بنیادی سہولیات شامل ہیں۔

اس ریسٹ ہاؤس کو "چامرین کاٹیج" کا نام دیا گیا ہے، جو دو الفاظ کا مجموعہ ہے: "چامرین" جو کہ کوہستانی (گاؤری) زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب "لوہا" ہے، جبکہ "کاٹیج" انگریزی لفظ ہے جس کا مطلب "چھوٹا گھر" ہے۔ یوں "چامرین کاٹیج" کا مطلب بنتا ہے "لوہے کا گھر"۔

راجہ تاج محمد خان کی خدمات نہ صرف ان کے علاقے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک روشن مثال ہیں، جو اخلاص، مہمان نوازی اور عوامی خدمت کے جذبے کی اعلیٰ روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

 

Comments

Popular posts from this blog

JAAZ BANDA OR JAZ BANDA DIR UPPER KP

  JAAZ BANDA OR JAZ BANDA DIR UPPER KP جہاز بانڈہ دیر بالا کا ایک نہایت دلکش، پُرفضا اور حسین سیاحتی مقام ہے۔ یہاں قدرت نے اپنی خوبصورتی کھلے دل سے بکھیر رکھی ہے۔ سرسبز و شاداب میدان، بلند و بالا پہاڑ، ٹھنڈے چشمے، دل موہ لینے والے آبشار اور خوبصورت جھیلیں اس مقام کو جنت نظیر بناتے ہیں۔ سطح سمندر سے تقریباً گیارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ مقام اپنی غیر معمولی خوبصورتی کے باعث “پریوں کا دیس” اور “پاکستان کا سوئٹزرلینڈ” بھی کہلاتا ہے۔ قدیم زمانے سے جہاز بانڈہ ایک چراگاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ “بانڈہ” گاوری زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چراگاہ کے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں مقامی چرواہے اپنے مویشی لے کر یہاں آتے ہیں، جس سے اس علاقے کی ثقافت اور روایتی طرزِ زندگی کی خوبصورت جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔ جہاز بانڈہ تک پہنچنے کے لیے دو اہم راستے استعمال کیے جاتے ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ تھل جاتے ہوئے دروازوں کے مقام سے دائیں طرف مڑ کر لاموتی، متول اور جندرئی تک پہنچا جاتا ہے۔ جندرئی سے اگر پیدل سفر کرنا ہو تو ایربی بانڈہ کے راستے جانا پڑتا ہے، جبکہ جیپ یا فور بائی فور گاڑی ٹکئی بانڈہ تک باآسا...

JAAZ OR JAZ OR JEHAZ BANDA KUMRAT VALLEY DIR UPPER, KHYBER PAKHTUNKHWA

JAAZ OR JAZ OR JEHAZ BANDA KUMRAT VALLEY DIR UPPER, KHYBER PAKHTUNKHWA جاز بانڈہ (یا جاز بنال) محض ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ Dir Kohistan کی فطری خوبصورتی کا ایسا شاہکار ہے جہاں پہنچ کر انسان خود کو ایک الگ ہی دنیا میں محسوس کرتا ہے۔ “بنال” کوہستانی زبان میں اس چراگاہ کو کہا جاتا ہے جہاں گرمیوں میں مقامی لوگ اپنے مویشیوں کے ساتھ قیام کرتے ہیں—اور یہی روایت آج بھی اس خطے کی ثقافت کا زندہ عکس ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع جاز بانڈہ، سرسبز قالین کی مانند پھیلے میدانوں، رنگ برنگے جنگلی پھولوں، شفاف پانی کی لہراتی ندیوں اور دیودار کے گھنے جنگلات سے گھرا ہوا ہے۔ دور دور تک پھیلی فلک بوس برف پوش چوٹیاں اس منظر کو ایسا جادوئی حسن بخشتی ہیں جو دیکھنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ یہاں کا سب سے دلکش نظارہ Chamerin Waterfall ہے، جسے دیر کوہستان کے خوبصورت ترین آبشاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بلند پہاڑوں سے گرتا ہوا یہ آبشار نہ صرف آنکھوں کو ٹھنڈک دیتا ہے بلکہ دل میں ایک نئی تازگی اور زندگی کی اُمنگ پیدا کرتا ہے۔ اس کے اردگرد کا ماحول فوٹوگرافی، میڈیٹیشن اور نیچر ...

DANO PASHKEER WATER FALL JAAZ BANDA DIR UPPER

DANO PASHKEER WATER FALL JAAZ BANDA DIR UPPER  دنوپشکیر آبشار، جہاز یا جاز بانڈہ دیر بالا کمراٹ ویلی کوہستانِ دیر کی وادیوں میں چھپا ہوا ایک ایسا قدرتی شاہکار جسے دیکھنے کا شرف شاید ہی پاکستان کے ایک فیصد لوگوں کو بھی حاصل ہوا ہو۔ یہ محض ایک آبشار نہیں، بلکہ فطرت کی وہ خاموش عظمت ہے جو اب تک دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، یہ پاکستان کا سب سے بڑا آبشار ہے، مگر افسوس کہ اپنی دورافتادگی اور مشکل رسائی کے باعث یہ آج بھی گمنام ہے۔ یہ شاندار آبشار کوہستانِ دیر کے مشہور سیاحتی مقام جاز بانال میں واقع ہے۔ مقامی گاوری زبان میں اسے "دنوپشکیر" کہا جاتا ہے، جو اس کے جلال اور وسعت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس آبشار کی تشکیل بھی کسی داستان سے کم نہیں—اوپر پہاڑوں میں موجود گھان سر یا کٹورہ جھیل کا پانی بلندیوں سے سفر کرتا ہوا پہلے کونڑ آبشار کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اور پھر نشیب کی طرف بہتے ہوئے ایک عظیم الشان روپ دھار کر دنوپشکیر آبشار میں ڈھل جاتا ہے۔ یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک ہی منبع سے جنم لینے والے دو آبشاروں میں سے ایک دنیا کو نظر آتا ہے، جبکہ دوسرا—دنوپشکیر—ابھی...