Darah of Kohistan: A Place of Wisdom, Music, and Tradition
دیر کوہستان کا سماجی و ثقافتی ادارہ ”داراہ“
داراہ دیر کوہستان کے قبائلی اور سماجی نظام کا ایک
نہایت اہم ادارہ ہے۔ جس طرح پشتون معاشرے میں حجرہ اور سندھی ثقافت میں اوطاق کو
مرکزی حیثیت حاصل ہے، اسی طرح گاؤری یا کوہستانی معاشرے میں داراہ کو خاص مقام
حاصل ہے۔ دراصل ہجرے کو ہماری گاؤری زبان میں داراہ کہا جاتا ہے۔ ماضی میں جب پورے
گاؤں کے گھر ایک ہی مقام پر آباد ہوتے تھے تو ایک مشترکہ داراہ ہوا کرتا تھا جہاں
سب لوگ جمع ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ آبادی مختلف علاقوں میں پھیل گئی، مگر آج بھی ہر
خاندان یا محلے کا اپنا مشترکہ داراہ موجود ہے۔
داراہ صرف بیٹھک نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک غیر رسمی
پارلیمنٹ ہے۔ یہاں گاؤں اور علاقے کے مسائل زیرِ بحث آتے ہیں، فیصلے کیے جاتے ہیں
اور جرگے افہام و تفہیم کے ذریعے تنازعات حل کرتے ہیں۔ شادی بیاہ اور غمی خوشی کی
تقریبات بھی اکثر انہی داراہوں میں منعقد کی جاتی ہیں کیونکہ یہاں شادی ہال جیسی
سہولیات موجود نہیں۔
ہر شام داراہ میں گاؤں اور محلے کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔
کہیں ستار کی مدھر دھنیں سنائی دیتی ہیں تو کہیں بانسری پر لوک دھنیں بجائی جاتی
ہیں۔ لوگ چائے اور اخروٹ کے ساتھ گپ شپ کرتے ہیں، پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں اور
ایک دوسرے کو دلچسپ قصے سناتے ہیں۔ ان قصوں میں جنگوں کی داستانیں، شکار کے
واقعات، دیومالائی حکایات، پریوں اور دیوؤں کی کہانیاں اور مقامی تاریخ شامل ہوتی
ہے۔
ایسی ہی ایک محفل میں محمد جان کاکا اکثر اپنی مشہور
ریچھ والی لڑائی کا قصہ سناتے تھے۔ وہ بتاتے کہ کس طرح ایک گمشدہ بیل کی تلاش میں
جندری کے میدانوں تک جا پہنچے، جہاں اچانک ایک خوفناک ریچھ سے سامنا ہوگیا۔ گھنی
جھاڑیوں اور دشوار راستوں کے درمیان ان پر ریچھ نے حملہ کردیا۔ محمد جان کاکا نے
جان بچانے کے لیے کلہاڑی سے مقابلہ کیا اور شدید زخمی ہونے کے باوجود ہمت نہ ہاری۔
بعد میں ان کے ساتھی مندل نے انہیں بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کر گھر پہنچایا۔ کئی
ماہ تک وہ بستر پر رہے اور مقامی طبیب کے علاج سے دوبارہ صحت یاب ہوئے۔ آج بھی ان
کے جسم پر موجود زخموں کے نشانات اس واقعے کی یاد دلاتے ہیں اور وہ اسے اپنی
“دوسری زندگی” قرار دیتے ہیں۔
داراہوں میں سنائی جانے والی کہانیوں میں ایک چترالی
لڑکی کا قصہ بھی بہت مشہور ہے۔ روایت کے مطابق وہ ناراض ہوکر گھر سے نکلی اور
برفباری کے باعث دیر کوہستان کے ایک ویران بانال میں پھنس گئی۔ سخت سردیوں میں اس
نے کئی مہینے ایک ڈیکیر میں گزارے اور زندہ رہنے کے لیے درختوں کے پتے اور راکھ تک
کھانی پڑی۔ موسم بہار میں جب شکاری وہاں پہنچے تو ابتدا میں اسے کوئی پراسرار
مخلوق سمجھے، مگر بعد میں حقیقت سامنے آئی۔ گاؤں والوں نے اس کی دیکھ بھال کی اور
بعد ازاں اسے اس کے اہل خانہ تک پہنچایا، جو اسے پہلے ہی مردہ سمجھ چکے تھے۔
داراہ محض قصہ گوئی کی جگہ نہیں بلکہ ایک مکمل کمیونٹی
سینٹر ہے۔ یہاں مستقبل کے منصوبے بنتے ہیں، حالاتِ حاضرہ پر گفتگو ہوتی ہے اور
نوجوان نسل بزرگوں سے روایات، رسم و رواج اور زندگی گزارنے کے اصول سیکھتی ہے۔
سردیوں میں “بیلر” نامی انگیٹھیوں کے گرد بیٹھ کر لوگ رات گئے تک محفل جماتے ہیں۔
خوشی کے مواقع پر داراہ میں “مجالس” منعقد ہوتے ہیں۔ یہ
ایک قدیم روایتی رقص ہے جو داردی قبائل میں صدیوں سے زندہ ہے۔ ستار اور ڈھول کی
دھن پر لوگ مخصوص گاؤری رقص پیش کرتے ہیں۔ اس میں کسی خاص طبقے یا پیشہ ور فنکار
کی اجارہ داری نہیں ہوتی بلکہ ہر شخص اپنی مرضی سے حصہ لے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ
یہ روایت آج بھی اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہے اور اسے ثقافتی ورثے کے طور پر عزت
دی جاتی ہے۔
داراہ مہمان نوازی کا بھی مرکز ہے۔ اگر کوئی مہمان داراہ
میں آجائے تو پورے محلے کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اس کی خدمت کریں، چاہے وہ کسی
کا مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لیے داراہ کو ایک درسگاہ بھی کہا جاسکتا ہے جہاں نئی
نسل نہ صرف روایات سے آشنا ہوتی ہے بلکہ سماجی اقدار، بھائی چارے اور عزت و احترام
کے اصول بھی سیکھتی ہے۔
وقت کے ساتھ داراہ میں نئی چیزیں بھی شامل ہوگئی ہیں۔ اب
موبائل فون عام ہیں، ملکی سیاست پر بحث بھی ہوتی ہے اور جدید دنیا کے موضوعات بھی
زیرِ گفتگو آتے ہیں۔ مگر ان سب تبدیلیوں کے باوجود داراہ آج بھی دیر کوہستان کی
سماجی زندگی، ثقافت اور روایات کا دل سمجھا جاتا ہے۔
گمنام کوہستانی

Comments
Post a Comment