Skip to main content

THE UNTOLD STORY OF KUND BANDA AND THE MEADOWS OF JAHAZ BANDA

BEYOND JAHAZ BANDA: EXPLORING KUND BANDA, BHEND BANAL, AND CHAMREEN COTTAGE

کونڑ بانڈہ (کونڑ بانال)  جاز بانڈہ کے دامن میں ایک دلکش وادی

THE UNTOLD STORY OF KUNAR BANDA AND THE MEADOWS OF JAHAZ BANDA

دیرکوہستان  کے مشہور سیاحتی مقام جاز بانڈہ کے قریب واقع کونڑ بانڈہ (کونڑ بانال) اپنی قدرتی خوبصورتی، بلند آبشاروں، برف پوش گلیشیئرز اور سرسبز چراگاہوں کی وجہ سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر سیاح اس پورے علاقے کو مجموعی طور پر "جاز بانڈہ" کے نام سے جانتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں موجود ہر میدان، چراگاہ اور قدرتی مقام کا اپنا الگ نام، تاریخ اور شناخت ہے جو صدیوں سے مقامی لوگوں کی زبان اور ثقافت کا حصہ رہی ہے۔

جاز بانال میں داخل ہوتے ہی جو پہلا وسیع و عریض سبز میدان نظر آتا ہے، اسے مقامی زبان میں جاز کہا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس کے نام سے پورا علاقہ مشہور ہو گیا ہے۔ اس کے سامنے واقع دوسرا میدان، جہاں آج کل چمرین گیسٹ ہاؤس قائم ہے، بھینڑ بانال کہلاتا ہے۔ ماضی میں یہ چراگاہ مقامی مویشی پال حضرات کے لیے اہم مقام رہی ہے۔

بھینڑ بانال سے نیچے کی جانب وہ علاقہ واقع ہے جہاں گھان سر (کٹورہ جھیل) کا نیلگوں پانی بلندی سے گر کر ایک شاندار آبشار کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس علاقے کو کونڑ کہا جاتا ہے، اور اسی نسبت سے یہ پورا میدان کونڑ بانڈہ یا کونڑ بانال کے نام سے جانا جاتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں جب جھیل اور گلیشیئرز کا پانی تیزی سے بہتا ہے تو یہ آبشار اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قدرت کا ایک دل موہ لینے والا منظر پیش کرتی ہے۔

کونڑ کے دوسری جانب وہ مقام واقع ہے جہاں مستقل برفانی ذخائر اور گلیشیئرز موجود ہیں، جن سے پگھلنے والا پانی مختلف ندی نالوں کو جنم دیتا ہے۔ اس مقام کو چمرین آبشار کہا جاتا ہے۔ مقامی داردی زبانوں میں "چمر" یا "چومر" کا مطلب لوہا ہے، لیکن یہی لفظ ان سخت اور قدیم برفانی تودوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو سال بھر موجود رہتے ہیں اور مکمل طور پر نہیں پگھلتے۔ شاید ان کی مضبوطی اور پائیداری کی وجہ سے انہیں لوہے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کالام کی وہ مشہور چوٹیاں جنہیں آج کل سیاحتی حلقوں میں "فائیو فنگرز" کے نام سے پکارا جاتا ہے، مقامی طور پر قدیم زمانے سے چمرین کے نام سے معروف رہی ہیں۔ اسی طرح کوہستانِ دیر اور توروال کے سرحدی علاقے میں واقع درال جھیل کے نزدیک کوز چمبر اور بر چمبر کے نام بھی دراصل اسی لفظ چومر سے ماخوذ ہیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ غیر مقامی سیاحوں اور باہر سے آنے والے افراد نے ان ناموں کا تلفظ تبدیل کر کے "چمبر" کر دیا، اور آج یہی نام زیادہ معروف ہو چکے ہیں۔

یہ مقامی نام محض جغرافیائی شناخت نہیں بلکہ اس خطے کی زبان، تاریخ اور ثقافت کے امین ہیں۔ جب ہم ان مقامات کو ان کے اصل ناموں سے یاد کرتے ہیں تو دراصل ہم اس علاقے کے ثقافتی ورثے اور مقامی علم کو بھی زندہ رکھتے ہیں۔ جاز بانڈہ، بھینڑ بانال، کونڑ بانڈہ اور چمرین جیسے نام ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ان پہاڑوں، میدانوں اور جھیلوں کی اپنی ایک داستان ہے، جو نسل در نسل مقامی لوگوں کی یادوں اور روایتوں میں محفوظ چلی آ رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

KUMRAT VALLEY FROM NATURAL PARADISE TO A SUSTAINABLE TOURISM HUB

UNLOCKING THE TOURISM POTENTIAL OF KUMRAT VALLEY PAKISTAN کمراٹ ویلی: قدرتی حسن سے پائیدار سیاحتی معیشت تک کا سفر کمراٹ ویلی پاکستان کی سیاحتی صنعت (Tourism Industry) کا ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہے جس میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، مگر بدقسمتی سے اس کی اصل استعداد ابھی تک مکمل طور پر بروئے کار نہیں لائی جا سکی۔ دنیا بھر میں کامیاب سیاحتی مقامات (Tourist Destinations) کی ترقی صرف قدرتی حسن کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر (Tourism Infrastructure) ، مؤثر پالیسی سازی (Policy Making) ، بہتر سہولیات (Tourism Facilities) اور مقامی آبادی کی فعال شمولیت بنیادی عناصر سمجھے جاتے ہیں۔ قدرت نے کمراٹ ویلی کو بے مثال حسن سے نوازا ہے۔ یہاں کے سرسبز جنگلات، برف پوش پہاڑ، شفاف دریا، بلند آبشاریں اور دلکش قدرتی مناظر اسے دنیا کے کسی بھی خوبصورت سیاحتی مقام کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح اس وادی کے حسن سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم، اس قدرتی دولت کے باوجود کمراٹ کو کئی بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا...

JAZ BANDA AND KATORA LAKE – JEWELS OF KUMRAT VALLEY

  JAZ BANDA: THE CROWN JEWEL OF KUMRAT VALLEY جاز بانڈہ، کمراٹ ویلی اور دیر کوہستان کا وہ دلکش سیاحتی مقام ہے جسے قدرت نے بے مثال حسن سے نوازا ہے۔ سرسبز میدان، برف پوش پہاڑ، نیلگوں جھیلیں، بہتے چشمے اور بلند و بالا آبشاریں اس علاقے کو پاکستان کے خوبصورت ترین مقامات میں شامل کرتی ہیں۔ دیر کوہستان کی مشہور و معروف کٹورا جھیل بھی اسی حسین وادی میں واقع ہے، جو اپنے شفاف نیلے پانی اور پُرفضا ماحول کی وجہ سے سیاحوں کے لئے جنت کا منظر پیش کرتی ہے۔ جاز بانڈہ سطحِ سمندر سے تقریباً 10,500 سے 11,500 فٹ (3200 تا 3500 میٹر) کی بلندی پر واقع ہے، جبکہ کٹورا جھیل تقریباً 11,500 فٹ کی بلندی پر موجود ہے۔ گرمیوں میں یہاں کا موسم نہایت خوشگوار اور ٹھنڈا رہتا ہے، جبکہ سردیوں میں پورا علاقہ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتا ہے، جو اس کی خوبصورتی کو مزید دوبالا کر دیتی ہے۔ سال 2015 سے پہلے جاز بانڈہ ایک نہایت پُرسکون، سرسبز اور قدرتی حسن سے مالا مال مقام تھا، جہاں صرف مقامی چراگاہیں اور چند روایتی جھونپڑیاں موجود تھیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ہوٹلوں اور ریسٹ ہاؤسز کی غیر منصوبہ بند اور بے ہنگم تعمیرات نے اس ج...

DARAH – THE TRADITIONAL COMMUNITY CENTER OF DIR KOHISTAN

Darah of Kohistan: A Place of Wisdom, Music, and Tradition دیر کوہستان کا سماجی و ثقافتی ادارہ ”داراہ “ داراہ دیر کوہستان کے قبائلی اور سماجی نظام کا ایک نہایت اہم ادارہ ہے۔ جس طرح پشتون معاشرے میں حجرہ اور سندھی ثقافت میں اوطاق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اسی طرح گاؤری یا کوہستانی معاشرے میں داراہ کو خاص مقام حاصل ہے۔ دراصل ہجرے کو ہماری گاؤری زبان میں داراہ کہا جاتا ہے۔ ماضی میں جب پورے گاؤں کے گھر ایک ہی مقام پر آباد ہوتے تھے تو ایک مشترکہ داراہ ہوا کرتا تھا جہاں سب لوگ جمع ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ آبادی مختلف علاقوں میں پھیل گئی، مگر آج بھی ہر خاندان یا محلے کا اپنا مشترکہ داراہ موجود ہے۔ داراہ صرف بیٹھک نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک غیر رسمی پارلیمنٹ ہے۔ یہاں گاؤں اور علاقے کے مسائل زیرِ بحث آتے ہیں، فیصلے کیے جاتے ہیں اور جرگے افہام و تفہیم کے ذریعے تنازعات حل کرتے ہیں۔ شادی بیاہ اور غمی خوشی کی تقریبات بھی اکثر انہی داراہوں میں منعقد کی جاتی ہیں کیونکہ یہاں شادی ہال جیسی سہولیات موجود نہیں۔ ہر شام داراہ میں گاؤں اور محلے کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ کہیں ستار کی مدھر دھنیں سنائی دیتی ہیں...