KUND BANDA A HIDDEN PARADISE IN THE HEART OF THE MOUNTAINS
کنڈبانڈہ- پہاڑوں کی گود میں چھپی جنت
آسمان پر گھنے بادلوں نے ڈیرے ڈال لیے
تھے۔ موسم کا مزاج یکایک بدلا اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی پھوار شروع ہو گئی — ایک
سچے پہاڑی موسم کا وہ جادوئی لمحہ جو ہر مسافر کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔
آبشار کے قدموں میں بیس منٹ گزارنے کے
بعد ہم نے رُخ موڑا اور کنڈبانڈہ کی سمت اترنے لگے — وہ ان چھوا، ان دیکھا
سیاحتی مقام جو آبشار سے محض چند فرلانگ کی دوری پر واقع ہے اور جسے فطرت نے خاص
توجہ سے سنوارا ہے۔
بائیں جانب افق پر اونٹ کی کوہان
سے مشابہ برف پوش چوٹیاں سر اٹھائے کھڑی تھیں۔ ان پر بادل دھوئیں کی مانند اترتے
اور لپٹتے تھے، گویا قدرت اپنا کوئی خفیہ جشن منا رہی ہو۔ انہی پہاڑوں کی پگھلتی
برف ناگن ندی کی روح بن کر بہہ رہی تھی — پانی ٹھنڈا ضرور تھا، مگر روانی
سہل اور پرسکون تھی۔ شفافیت ایسی کہ تہہ میں بچھے سنگریزے آنکھوں کو سکون دیتے اور
دل کو تازگی بخشتے تھے۔
یہ ندی محض ایک آبی گزرگاہ نہیں، بلکہ
اس ایکو ٹورازم مقام کی روح ہے۔ بل کھاتی، شفاف پانیوں کی یہ ندی، دونوں
کناروں پر سرسبز گھاس کے قطعات اور قطار در قطار لگے رنگین خیمے — یہ منظر کسی کیمپنگ
سائٹ کی مثالی تصویر تھا۔
وادی میں قدم رکھتے ہی بائیں ہاتھ پر
لکڑی کا ایک دیہاتی ڈھابہ نظر آیا، جس کے باہر سجی میز کرسیاں اور چائے کی
خوشبو — یہ سب مل کر ایک ایسا منظر بناتے تھے جو کسی فلمی سین سے کم نہ تھا۔ مقامی
کھانے اور پہاڑی چائے کا یہ سنگم سفر کی تھکاوٹ پل بھر میں دور کر دیتا ہے۔
ندی عبور کرنے کے لیے لکڑی کی بیس سے
پچیس فٹ لمبی ایک چوکور لٹھ پُل کا کام دیتی تھی، جس کے دونوں سروں پر تین تین
لکڑیوں سے گیٹ بنایا گیا تھا — سادہ مگر مؤثر دیسی انجینئرنگ کا ایک دلچسپ نمونہ۔
ندی پار ڈھلوان پر اونچے گھنے درختوں کا ایک چھوٹا سا جنگل اس نیچر ریٹریٹ کو
مزید دلکش اور پراسرار بناتا تھا۔
کنڈبانڈہ ان گنے چنے آف بیٹن ٹریک مقامات میں سے ہے جو پہلی نظر
میں دل میں اتر جاتے ہیں۔ وہاں پہنچتے ہی دل نے گواہی دی کہ یہاں کئی راتیں گزاری
جائیں، یہاں کے ستاروں بھرے آسمان تلے سویا جائے اور یہاں کی صبح کی خنکی
کو اپنی سانسوں میں بسایا جائے — مگر وقت کا دامن تنگ تھا اور چند گھنٹے ہی نصیب
ہوئے۔
میرے ذہن میں لاہور سے سنی ہوئی ایک
خبر تھی کہ کنڈبانڈہ میں ایک ایسا پہاڑی مینڈھا موجود ہے جس کے چار سینگ
ہیں — فطرت کا ایک نادر عجوبہ۔ امیر صاحب نے بتایا کہ وہ صاحب بہادر ابھی چرنے گئے
ہیں، سو ملاقات نہ ہو سکی۔
پندرہ بیس سیاح پہلے سے اس
بہشت نگری میں قیام پذیر تھے۔ بارش رک چکی تھی، فضا میں ہلکا دھندلکا چھایا تھا
اور ہم ندی پار کر کے اس ہائیکنگ ڈیسٹینیشن کے خاموش سینے پر قدم جما رہے
تھے۔
سفری معلومات:
کنڈبانڈہ تک رسائی کے لیے آبشار سے
ٹریکنگ کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہاں خیمہ بستی (کیمپنگ) کی سہولت
موجود ہے۔ موسم گرما اس مقام کی سیر کا بہترین وقت ہے، تاہم پہاڑی موسم کے پیشِ
نظر گرم لباس اور واٹر پروف سامان ضرور ساتھ رکھیں۔

Comments
Post a Comment